Synthesis اور Divisions
یہ کے کلام جو ہے، الله کا کلام ہے کلام
بنتا ہے کلمات سے، کلمات حروف سے بنتے ہیں، عربی زبان کے حروف ٢٨ یا ٢٩ ہیں "ا "
اور "ء"
کو ایک ہی مانیں گے کو ٢٨ رہ جائینگے اگر الگ الگ مانیں گے تو ٢٩ ہو جائینگے .یہ
حروف جوڑتے ہیں لفظ بنتے ہیں لفظ موہمل بھی ہوتا ہے ليكن کلمہ وہ کہلاتا ہے جو
بامعنی لفظ ہو پھر ان کلمات کو آپ جوڑتے ہیں یہ موراقابے توصیفی بن گیا، موراقبے
اضافی بن گیا موراقبے عددی بن گیاموراقبے جاری بن گیاپھر ان موراقبت کو جوڑ کر
فقرہ بنتا ہے اور فقروں سے جوملہ بنتا ہے کلمے موفید جس کو کہا جاتا ہے قرآن مجید
کے اعتبار سے علامہ سیوطی نے مخصوص جو قرآن کی اصطلاحات کی ہیں اس کے حوالے سے ایک
بات کہی ہے لیکن یہ کے قرآن کی اصطلاحات اس کی اپنی ہیں دنیا کی کسی اصطلاحات پر
اسکو قیاس نہیں کیا جا سکتا ليكن علامہ سیوطی نے کہا کے یہ دیوان کی شکل ہو سکتا
ہے جیسا کے حافظ کا دیوان یا کسی اور کا دیوان بہرحال سورتے جو ہیں وو قصیدوں کی
شکل میں ہیں بیت، شعر آیت ہے ، قوافی جو ہوتے ہیں شعروں میں کافیہ وہ یہاں فواصل
ہیں آیت کے آخری حروف ایک دوسرے سے موشابے ہوتے ہیں کے جنسے پھر وہ صوتی آہن پیدا
ہوتی ہیں .
ٱلرَّحْمَـٰنُ ١, عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ
٢, خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ ٣, عَلَّمَهُ
ٱلْبَيَانَ ٤
اب یہ آپس میں جوڑتے چلے جاتے ہیں ان میں
آہن پیدا ہوتی ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے پہلی بات یہ نوٹ کیجے قرآن مجید کی
اکائی ہے آیت اسے نہ آپ جوملہ که سکتے ہے نہ آپ فقرہ که سکتے ہیں بائبل میں بھی جب
verse
کا ذکر آجاتا ہے تو انگریزی تراجم میں آیت کے لئے بھی verse
آجاتا ہے وہ بلکل غلط ہے قرآن کی آیت اسکی اپنی اصطلاح ہے اپنا مفہوم ہے لوغوی
مفہوم کیا ہے ؟ نشانی، آیت - نشانی
قرآن کی ہر آیت الله تعالیٰ کے علم اور
حکمت کی نشانی ہے. اب قرآن کی آیاتے نوٹ
کیجے. صرف حروف پر بھی مشتمل ہے "الٓمٓ" حروفے موقطعات اور آیت بن گئی .وہ موراقباتے ناقصیٰ پر بھی موشتامل
ہے "وَٱلْعَصْرِ"
موراقباتے جاری ہے حرفے جار ہے.
پورے جملے پر بھی مشتمل ہے “إِنَّ الْإِنسَانَ
لَفِي خُسْرٍ” ایک جملہ ہے.
اور
دس دس جوملوں پر بھی موشتمل ہے. حضور نے
بتایا "وَٱلْعَصْرِ" یہ آیت ہو گئی تو بس آیت ہو گئی
. "الٓمٓ" یہ آیت
ہو گئی. "ق"
حرف ایک ہے یہ آیت نہیں ہے. "ن" حرف ایک ہے
یہ آیت نہیں ہے. قٓ ۚ وَٱلْقُرْءَانِ
ٱلْمَجِيدِ یہ آیت ہو گئی.
اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ
الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا
فِي الأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ
أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا
شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاو ;َاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
آیت الکرسی کا تجزیہ کیجئے دس جملے بنتے ہیں.
نوٹ
کر لیں یہ چیز توقیفی کہلاتی ہے. یہ کسی گرامر کے اصول
پر نہیں ہے. کسی منطق کے اصول پر
نہیں ہے. آیات قرآنیہ کی تعین
توقیفی ہے. یعنی حضور کے بتانے
پر موقوف ہے.
تو اس کو کہتے ہیں توقیفی موقوف علیه ہے حضور صلی الله
علیہ وسلم کے بتانے پر اب اس میں روایت کا اختلاف ہو سکتا
ہے کے ,حضور صلی الله علیہ وسلم سے ایک
روایت ہوگی کے یہ ایک آیت بنی یہ دو آیتیں بنی مثال کے طور پر بڑی
اہم مثال آپ کو دیں رہا ہوں “سورہ مزمل” کا جو دوسرا رکوع ہے پورا، دوسرا رکوع وہ ایک آیت شومار ہوتا ہے اب کچھ
علماء کا یہ گومان تھا کے یہ ایک آیت نہیں ہو سکتی یہ مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہیں
دو اوقات میں نازل ہوئی ہے اور اسسے متعلقہ قول مل گیا علامہ سیوطی کے ہاں حضرت عبدللہ
بن عبّاس رضي الله تعالیٰ عنه
کا قول کے یہ دو آیتیں ہیں ایک آیت نہیں لیکن یہ کے یہ ہوگا موقوف روایت. میں کوئی نہیں ہوں جو اسے قراردے سکوں. ہاں مجھے اگر کوئی روایت مل جاتی ہے کوئی خبر یہ
اثر .خبر محمد صلی الله علیہ وسلم کی یہ اثر آپ کے کسی صحابی کا تو پھر یہ ہے
کے ہم مانیں گے . اسکو کہتے ہیں توقیفی آیات کا معملا
توقیفی ہے یہ کسی منتق ، کسی گرامر یہ کسی اصولے بیان کسی پر مبنی نہیں ہے . یہ مبنی ہے صرف حضور
کے بتانے پر.
اسی طرہاں سوره کسی کہتے ہیں؟ عربی
زبان میں سور کے معنی ہیں "فصیل". "فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍۢ
لَّهُۥ بَابٌۢ" سوره حدید میں الفاظ آئے ہیں.
اب
اس کا کیا تصور دیا گیا. کہ ہر آیت جو ہے وہ
اللہ کے علم اور حکمت کی نشانی ہے. دس آیتیں، بیس آیتیں، سو آیتیں جوڑ کر ایک فصیل
باندھ دی. یہ شہر حکمت خداوندی
ہے.
ایک نظام ہوتا ہے .جیسے آپ کسی شہر کا منصوبہ
بناتے ہیں.آجکل بڑا چل رہا ہے Town Planningایک بڑا فن ہے . بڑی
مہارت کا کام ہے شہر کو پلان کرنا اسکے اندر کیا کچھ ہونا چاہیے ،کس طرہاں سے ہونا
چاہیے.
تو یہ سوره جو ہے ایک یونٹ ہے قرآن کا اور اسکا
جو لفظی معنی ہے "فسیر" گویا کے اسنے گھیرا ہوا ہے ایک شہرے معنی کو علم
و حکمت کے ایک شہر کو. اس کے گرد یہ فصیل
جو ہے پھیلی ہوئی ہے.
اب جیسے آیتیں چھوٹی بھی ہیں اور بڑی بھی ہیں.
اس
طرہاں سورتے چھوٹی بھی ہیں اور بڑی بھی ہیں
. "سوره
العصر" تین آیتیں، "سوره کوثر" تین آیتیں،"سوره النصر" تین
آیتیں. تین ہی سورتیں تین تین آیاتوں پر موشتمل ہیں. تین سے کم پر کوئی
نہیں دو آیات کی کوئی سوره نہیں. لیکن آگے آپ چلتے چلے
جائیے بڑی سے بڑی سورتے ہیں .سوره بقرہ سب سے بڑی ہے.
تو آیت اور سورت کے علاوہ دورے صحابہ میں صرف ایک لفظ اور تھا قرآن کی تقسیم کے زومرے میں. اور وہ تھا منزل. سات منزل میں قرآن کو تقسیم کیا گیا.تاکے جو شخص قرآن مجید ایک ہفتےمیں ختم کرنا چاہے ہر شب میں اکثر و بشتر وہ لوگ رات میں قرآن پڑھتے تھے تو وہ ایک منزل پڑھ لے ایک ہفتے میں پورا قرآن ختم ہوجائے .یہ منزل ہے تو یہ چونکے دورے صحابہ میں تھا یقینن حضور صلی الله علیہ وسلم نے بتایا ہوگا اس لیے اس میں آپ کو ایک عجیب حسن نظر آئے گا. اسمیں یہ نہیں کیا گیا کے بلکل برابر برابر سات کردو چاہے سورتے ٹوٹ جائیں. سورتے کوئی نہیں ٹوٹتی اس میں سورتے موکمل جوں کی توں آئیں گی. البتہ یہ کے ایک عجیب بات ہے. سوره فاتحہ کو اگر ایک طرف رکھ دیں کیوں کے وہ قرآن کے دیباچے کی حثیت رکھتی ہے. تو پہلی منزل میں تین سورتے ہیں، دوسری میں پانچ، تیسری میں سات ،چوتھی میں نوں، پانچوی میں گیارہ، چھٹی میں تیرہ اور ساتوی میں پینسٹھ. یہ ہے ان سورتوں کی گویہ کے ایک سیڑھی چڑھ رہی ہواور تقریبن مساوی ہو جاتے ہیں کوئی سوا چار پارے ہیں کوئی ساڑھے چار پارے ہیں کوئی پونے پانچ پارے ہیں تقریبن مساوی. لیکن مصنوعی برابری پیدا کرنے کے لیے سورتوں کی فسیلوں کو نہیں توڑا گیا.
اسے آگے چل کر جو پاروں کی تقسیم ہے وہ بہت
بعد کی بات ہے تیس پارے اور اسمیں آپ کو یہ ساری قباحتیں نظر آئینگی اسمیں سورتوں کی
فسیلے توڑی گئی ہیں اور بڑے بھونڈے انداز میں توڑی گئی ہیں. "سوره ہجر" ایک آیت ایک طرف ہے باقی ساری اگلے پارے میں ہے.
معلوم ہوتا ہے کسی شخص نے صفحات گنتی کیے، تیس سے تقسیم کیا اور برابر صفحوں میں پاروں
کی شکل دے دی.
لیکن بہرحال دورے صحابہ میں پاروں کا کوئی ذکر
نہیں تھا. دورے صحابہ میں صرف
آیت، سورت اور منزل بس یہ تین چیزے تھیں.
اب جو سورتوں کو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے
یہ بھی بعد کی بات ہے لیکن یہ کے یہ جو تقسیم ہے کچھ سورتے تو ایسی ہیں چھوٹی چھوٹی
سورتے ہے ایک ایک رکوع پر موشتامل ہیں. لیکن رکوع کیوں کیے گیے ،لمبی سورتوں کا کچھ
حصہ پڑھنا ہے اگر نماز میں تو اس کا وہ حصّہ پڑھا جائے جس میں ایک مضمون پورا ہو رہا
ہو مضمون نہ ٹوٹے تاکے وہاں پر رکوع کرے آدمی جہاں پر کے ایک اعتبار سے مضمون موکمل
ہو جائے. تو
رکوع سے رکعت ہے رکوع ہے.یہ تقسیم بھی اگرکہے بہت ہی بدنام شخص
ہے ہماری تاریخ کا حجاج ابن یوسف یہ اسکی کی ہوئی تقسیم ہے یا اسنے کرائی ہے بہرحال
اسکی طرف منصوب ہے اور یہ بات ماننی پڑتی ہے کے بڑے گہرے غوروفکر کے ساتھ کی گئی تقسیم
ہے .کہی کہی آپ اختلاف کر سکتے ہیں اور آپ کو حق حاصل ہے کیوں کے یہ چیزے توقیفی نہیں
ہیں یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نہیں ہیں.
تو یہ ہے قرآن مجید کی ترکیب اور تقسیم.
0 Comments
if you have any doubts please let me know