تعارف القرآن (حصہ-12):

قرآن کا دوسری کتابوں سے مختلف ہونا:

عام کتابوں سے اسکا فرق کیا ہے ؟ ایک کتاب ہوتی ہے اس میں ہر chapter میں ایک بحث مکمّل ہوجاتی ہے .اگلے chapter میں لوٹا کر اب پچھلے chapter کی آپ کوئی بات نہیں کرینگے. وہ بات اب آگے چلے گی . ابواب ہونگے ، ابواب میں مضمون کے مطابق بات آگے چلے گی . کتاب کا یہ لازمی وصف ہے.

قرآن مجید اس معنی میں کتاب نہیں ہے. اسمیں قصّہ آدم و ابلیس سات جگہ آرہا ہے. بار بار آرہا ہے. سوره بقرہ میں، سوره اعراف میں،سوره ہجر میں ، سوره بنی اسرائیل میں، سوره کہف میں ، سوره طه میں، سوره ص میں. حضرت موسیٰ علیہ سلام کا قصّہ کتنی بار آرہا ہے.

 تو قرآن مجید کتاب کی category اس کی definition پر پورا نہیں اترتا ہے. دنیا میں جوکتاب کا معیار ہے، عام اسکا جو اسلوب ہے اسکی جو definition ہے.ایک شکل ہوتی ہے "مجموعے مکالت" وہ بھی نہیں ہے. اسمیں ہر مکالا اپنی جگہ پر ایک موکمّل شہ ہوتی ہے. لیکن یہ کہ وہ دوسرے مکالات سے موختلف ہوگی. یہ مجموعے مکالت بھی نہیں ہے.

اسکا اسلوب جوہے وہ خوطبے کا ہے. . Oration یہ الله تعالیٰ کے خوطبات کا مجمعہ ہے مختلف اوقات میں خطبے نازل ہوتے تھے محمّد صلى الله عليه وسلم پر اور یہ بھی جان لیجے عرب میں ادب کی دو ہی سفتے تھیں جو معروف تھیں. یہ تو شعریہ خطبہ.یہ خطیب ہوتے تھے بڑے، شولہ بیان خطیب ،یہ شاعر ہوتے تھے.  یہ جب شعر کے اسلوب پر نہیں تھا تو خطابت کا اسلوب تھا جو الله نے اختیار فرمایا. اور ہر موقعے پر ہر مرحلے پر جو خطبہ اس وقت کے حالات کی موناسبت سے نازل ہوا وہ ایک سورت ہے. تو یہ ہے .

"Collection of Devine Oration"

مجعہ خطباتے الہی اسے کہا جا سکتا ہے. لیکن اسے بھی چند نتیجے نکلتے ہیں وہ نوٹ کرنے ضروری ہیں.خطبے میں موخاطب اور موختب کے مابین ایک ہماہنگی بہت ضروری ہے. ایک مصنف بیٹھا کتاب لکھ رہا ہے اس کے سامنے کوئی نہیں ہوتا وہ تو اپنی مگن میں جو بھی خیال ہے وہ لکھ رہا ہے خطبے میں سننے والے سامنے ہوتے ہیں اگر انکے درمیان کنکشن نہ رہے تو پھر وہ خطبہ غیر موثر ہوجائیگا.لوگ جو ہیں وہ موتوجہ ہی نہیں رہینگے. دوسرا یہ کے خطبے کا ایک لازمی وصف یہ ہوتا ہے کہ ایک واقعاتی پسمنظر ہوتا ہے پیچھے موجود. اب کوئی شخص ہے سیاسی تقریر کر رہا ہے ایک خاص پسمنظر مجود ہے اس میں وہ ان چیزوں کو حوالے دیتا چلا جائیگا صرف کوئی تفصیلات بیان نہیں کریگا اسلیے کے وہ  لوگوں کو معلوم ہے. آجکے دور کا ایک واقعہ ہے وہ لوگوں  کے علم میں ہے. لیکن کتاب میں آپ لکھیںگے تو وہ پورا واقعہ بھی بیان کرنا پڑےگا آپکو کہ کب ہوا کیسے ہوا جسکا میں حوالہ دےرہا ہوں.خطبے کے اندریہ پسمنظر جوہے وہ مجود ہے اور اس کے حوالے سے صرف اشارے جوہے وہ اسکی طرف ہو جائینگے. 

نمبر تین یہ ہے کے خطبے میں تحویلے خطاب بہت ہوتا ہے. تحویل خطاب سے کیا موراد ہے ؟ خطیب جو ہے وہ آپ سے خطاب کر رہا ہے کہیں آپ سے موخاطب ہے کہیں پر وہ کسی ایسے شخص کو موخاطب کرے گا جو اس محفل میں مجود بھی نہیں ہوگا.تو اسمیں تہویلے خطاب نوٹ کرنا پڑتا ہے ابھی کسسے بات ہو رہی تھی ، ابھی کسسے بات ہورہی ہے؟ قرآن مجید میں آپ دیکھیں نگے ایک آیات میں محمدصلى الله عليه وسلم سے خطاب ہے. اگلی آیات میں کفار سے خطاب ہے اسے اگلی آیات میں اہل ایمان سے خطاب ہے . تو تھویلے خطاب جو ہوتا ہے وہ نوٹ کرنا پڑتا ہے کے اس وقت اس آیات کا روخ کدھر ہے اسمیں کسسے خطاب کیا جارہا ہے.

چوتھی بات یہ ہے کے خطبے میں صرف عقل سے اپیل نہیں کی جاتی جذبات سے بھی اپیل ہوتی ہے اسلیے خطابی انداز کہلاتا ہے. خطابی انداز میں لوگوں کے جذبات سے بھی اپیل کی جاتی ہے. جبکے آپ ایک مکالا لکھ رہے ہونگے اسمیں جذبات کی بات نہیں آئیگی. ٹھنڈی ٹھنڈی عقلی باتیں ،  دلیلی باتیں، سوغرا کوبرہ جوریے ،نتیجہ نکالیے اور لوگوں کے سامنے رکھیے.تصنیف ہے. لیکن خطبے کے اندر صرف عقل نہیں جذبات سے بھی اپیل ہوگی. اب یہ سارے اوصاف جو میں  بیان کر رہا ہوں یہ تمام اوصاف قرآن مجید میں بتمام و کمال مجود ہیں.

نمبر پانچ, یہ کے خطبے میں ، یہ چیزشاید موشترک ہے خطبے میں بھی ،غزل میں بھی اور قصیدے میں بھی اسکا اول و آخر بہت جامے اور موسّر ہونا چاہیے.اسلیے متلع / مکتا یہ خاصتور پر ہوتے ہیں متلع میں آپ پڑھیں. جس غزل کا متلع جاندار ہے اسکو آدمی پڑہیگا.اور اگر وہ متلع پھوس پھوسہ ہے تو باقی نظم پڑہیگا ہی نہیں چاہے بڑا عمدہ شعر بھی ہو متلع ہی جو ہے بیجان ہے پھوس پھوسہ ہے پھر مکتا آخری جو شعر ہو . تو قصیدے میں بھی یہ ہے اور خطبے میں بھی یہ ہے. یہی وجہ ہے قرآن مجید کے اکثر و بشتر سورتوں کی پہلی اور آخری آیات انتہائیں اہم ہوتی ہیں بہت جامے ہوتی ہیں. اب سوره بقرہ کی آیات شوروع کی پھر آخر کی انتہائی جامے .یہی سوره ال عمران کا معملا ہے ، یہی سوره حج کا ، ہر جگا پر آپ دیکھیںگے . ابتدائی جو ہے خطیب کوئی ایسا انداز اختیار کرے ایسے الفاظ بیان کرے کے سامعین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالے اگر شوروع ہی کا انداز ایسا نہیں ہے تو بات آگے بڑھیگی نہیں  . 

ایک آخری بات یہ ہے کے خطبے میں ہمیشہ یہ ہوگا کے ایک مین سپیکر جو ہے اسکی ایک بات سامنے ہے کے مینے یہ بات سمجھانی ہے ، اپنے سامعین کے زہن میں بٹھانی ہے لیکن دائیں اور بائیں کی باتیں کرے گا کوئی قصّہ بھی سونائے گا کوئی شعر پرھے گا کوئی لطیفہ بھی سونائے گا ہمارے ہاں کے بہترین خطیب جو ہوتے تھے وہ حراری بہترین خطیب ہوتے تھے

آپ نے سونا ہوگا مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة الله علیہ انکی تقریر لوگ چھ چھ گھنٹے تک سنتے تھے وہ کبھی رولا بھی رہے ہے کبھی حسہ بھی رہے ہیں عام آدمی تلقین بھی کریگا کہ یہ کیا ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں لیکن جب آخری تقریر ہوتی تھی جب تقریر ختم ہوتی تھی جو بات وہ زہن میں بیٹھانا چاہتے تھے دل میں اتارنا چاہتے تھے وہ اتر چوکی ہوتی تھی  .باقی یہ کے ادھر ادھر کی چیزے ہے ordinary چیزے ہے وہ رہتی ہیں.

 یہ ہیں چھ اوصاف خطبات کے اور قرآن مجید کے اندر بھی کم و بیش یہ اوصاف مجود ہیں . قرآن کا اسلوب خطبے کا ہے.