تعارف القرآن (حصہ-11):
"قرآن کے اسماء و صفات":
تعاروف
القران کے زومن میں اگلی بحس، "قرآن کے اسماء و صفات":
عربوں
کے ایک خاص ذوق تھا . ظاہر بات ہے الله نے جب قرآن نازل کیا ہے تو انکے ذوق کو بھی
مدنظر رکھا ہے انکا ذوق کیا تھا جس چیز سے انہیں محبّت ہوتی تھی اس چیز کے وہ بہت
سے نام رکھتے تھے گھوڑے کے لئے ہزاروں لفظ ملجائینگے آپ کو شیر کے لئے پانچ ہزار
الفاظ مل جائینگے تلوار کے لیے پانچ ہزار الفاظ ملجائینگے یعنی اس چیز کی جو بھی
ایک صفت ہے اس کی صفت کے اعتبار سے ایک نام کوئی اور صفت ہے تو اس صفت کو ایک اور
نام. تو صفاتی نام ،اب جیسا کہ آپ کو معلوم ہے الله کے ننیانوے نام ,صفاتی
تو ہیں, الله ایک صفت پھر کوئی دوسری صفت
ہرصفت کے اعتبار سے ایک نام .قرآن مجید کے اسماء علامہ جلال الدین سیوطی نے
پچپن شومار کیے ہیں. لیکن وہ بھی موکمّل نہیں ہے لسٹ ,اسلیے کہ اس میں ایک اہم نام "مورہان "یہ شامل نہیں
ہے. ان میں سے جو اہم اسماء ہیں وہ میں آپ کو بتادیتا ہوں "القرآن" جس
پر گوفتوگو بعد میں ہوگی. اسلیے کے سب سے زیادہ ایک رائے یہ ہے کہ یہ تو اسم جامد
ہے قرآن کے لئے ، proper noun ہے .
"الکتاب ، ا
ذکر، الھودا، انور،الفورقان، کلملله ، الوحی،روحم من امرینہ".
پھر اس
کی صفات کے اعتبار سے،
"الکریم،
الحکیم، العظیم، المجید، الموبین،راعما،العلی،
بصائر،بوشرا، بشیر،نظیر،عزیز، قرآن العزیز، بلاغ، بیان، احسن القصص ،
احسن الحدیث،مؤعیضا ، الشفاء، مبارک، موایمن، قييم ،مسنیاں، متشابه.
یہ مینے
آپ کو تئیس نام بتائے ہیں.لیکن یہ کے علامہ جلال الدین سیوطی نے پچپن گنوائے
ہیں.لیکن جو بحث دلچسپ ہے وہ یہ کے اس میں جو لفظ "القرآن" ہے.
اسکے معنی کیا ہے اور کس مادّے سے یہ لفظ بنا ہے؟ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ اسمے
جامد ہے یہ موسطق نہیں ہے کسی مادّے سے نکلا ہوا نہیں ہے .اور یہ بھی آپ نوٹ
کرلیجے الله کے اسماء میں بھی ایک نام کو سمجھا جاتا ہے وہ موسطق نہیں ہے اسمے
جامد ہے، اسمعی الم ہے ،اور وہ ہے "الله" باقی سارے
نام صفاتی ہیں.ایک نام اسلیے اسمے ذات کہتے ہے اسکو. لیکن یہ رائے
موتافق الائے نہیں ہے. یہ کچھ لوگوں کی رائے ہے ایک رائے یہ بھی ہے کے یہ بھی اسمے
الم نہیں ہے . یہ موشتق ہے”الہ” سے جیسے "حکیمون" یہ صفت ہے "الحکیم"
یہ الله کا نام ہو گیا. "الہ ون"ایک معبود
، "الالہ"معبودے برحق. "ال الا" وہ الله بن گیاایک رائے
یہ بھی ہے. لیکن اسی طریقے سے نوٹ کیجے کہ قرآن مجید کے بارے میں ایک رائے یہ بھی
ہے کے "القرآن" اسکا اسمے الم ہے.یہ جامد ہے کسی اور مادّے سے نکلا نہیں
ہے. لیکن جو اکثر کی رائے ہے وہ یہ ہے کے نہیں یہ اسمے جامد نہیں اسمے موشتق ہے .
لیکن پھر دو رائے ہیں کے مادّہ کیا ہے؟ ایک "قرن" ق ،ر،ن اور ایک
"قرء" ق ،ر،ء.یہ دو مادّوں کے بارے میں رائے ہے کے قرآن انسے نکلا ہیں. قرن
کہتے ہے کسی چیز کا قریب ہوجانا ،جوڑجانا ، ملجانا. یہ حج کی جو تین
شکلے ہیں"حج افراد"، "حج تمتع"، "حج قران ".
"حج قران " کیا ہے ؟ ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرلیا
جائے. تو یہ حج قران ہے .اسی سے قرانو سعدین کا لفظ استعمال ہوتا ہے.قرینہ ،
قررائین اسی سے الفاظ بنے ہیں. امام فررہ کی رائے یہ ہے کے "قرن" سے
"قرآن" بنا ہے. اسلئے کے اسمیں بھی الله تعالیٰ کی آیات جمع ہو رہی
ہیں. اسی ترہاں "قرء" ق ،ر اور ء.اس "قرء" کا مسکن بھی بنجاتا
ہے جیسے "روجحان، غفران.اسی ترہاں قرآن "قرء" سے بنا ہے. دونوں
الفاظوں کے مطلب جمع ہونا ہے تو اس معنی میں یہ قرآن جمع ہے الله تعالیٰ کی تمام
آیات کی. آیات کا جامعے یہ ہے لفظ قرآن کی بحث.
قرآن کا
اسلوبے کلام:
اگلی
بحث بڑی اہم ہے اور دلچسپ ہے. قرآن کا اسلوبے کلام کس category میں آتا ہے؟
قرآن
کیا ہے ؟ ایک بات کی تو سختی سے نفی کی ہے الله نے. یہ شاعری نہیں ہے.
وَمَا عَلَّمْنَـٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ
سوره
یس: ہمنے شعر تو سیکھایا ہی نہیں ہے, محمّد صلى
الله عليه وسلم کو.
اور
کوئی شعر انکے شیانے شان
بھی نہیں ہے. شاعروں کے
بارے میں سوره شوریٰ میں چونکے آیا ہے،
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ-٢٢٤
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍۢ يَهِيمُونَ-٢٢٥
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ-٢٢٦
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ
استثنیٰ
تو ہے کہ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں, لیکن یہ کہ اکثر و بشتر شاعراں کا معملا یہی
ہے, پیروی کرتے ہے ووہی لوگ جو حد سے گوزرنے والے ہوتے ہیں. لاؤ بالیانہ
انداز والے لوگ، غیر سنجیدہ لوگ پیروی کرتے ہیں. خود وہ بھی زمینوں آسمان کے کلامے
ملاتے ہیں. کبھی ادھر کی بات، کبھی ادھر کی بات اور تیسری بات یہ کے جو کہتے ہیں
وہ کرتے نہیں,
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ-٢٢٦
تو یہ
شعر کی تو نفی کی گئی ہے قرآن میں, جیسے مینے بتایا تھا سوره حقّہ کی آیات
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍۢ كَرِيمٍۢ
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍۢ
یہ شاعر
کا کلام نہیں ہے. البتہ ایک بات نوٹ کیجے، جسے آزاد شاعری آزاد نظم کہا
جاتا ہے وہ میرا گومان یہ ہے کہ چونکے مینے کوئی تحقیقی موطالع نہیں کیا ہے کہ
شاید وہ ہے ہی قرآن سے ماخوز "آزاد شاعری"اس میں وزن نہیں ہوتا ریدھمم
ہوتا ہے. ایک میسرہ چھوٹا دوسرا میسرہ بڑا ، لیکن ریدھم رہے گا. یہ جو آزاد
شاعری "Blank Verse"
جسے آپ کہتے ہیں میرا گومان ہے کے شاید اس کا رواج قرآن کے بعد ہوا ہو. قرآن مجید
ہی کی نکالی میں یہ سلف جو ہے ادب کی قرآن مجید کے بعد وجود میں آئی ہو. والہ و
عالم یہ بات میں دعوے سے نہیں که سکتا، یہ گومان ہے میرا .
البتہ
اب یہ کہ اسے آگے چلیے شعر نہیں ہے نثر ہے. لیکن نثر کے اعتبار سے کونسی category میں آئی
گی. کیا یہ کتاب عام معنی میں جسے ہم کہتے ہیں کتاب ہے ؟ ایک تو وہ بات تھی
نہ جو اقبال کے حوالے سے مینے آپ سے کہی "یہ کتابے نیست ،چیزے
دیگرست”
0 Comments
if you have any doubts please let me know