تعارف القرآن (حصہ-10):

قرآن کے نام اور صفات:

قرآن میں ایک خاص ملاقوتی مٹھاس ہے "Divine Music"صوتی آہنگ ہے.لاہور میں ایک صاحب ہیں "پروفسسر ہیں Phonetics کے پنجاب یونیورسٹی میں، وہ یہ کہتے ہے کے میں ثابت کر سکتا ہوں کہ دنیا میں آج جتنے بھی صوتی اصول ہیں وہ اپنی جگا ایک بہت بڑی سائنس ہے اسکے اعتبار سے میں ثابت کرسکتا ہوں کہ بلند ترین موسیقی قرآن مجید ہے. اس لیےقرآن مجید کو اچھی سے اچھی آواز میں پڑھنے کی تاکید آئی ہے.

"قرآن کو اپنی آوازوں سے موزہین کرو

اور ایک اور جگا آیا ہے

"جو قرآن مجید کو اچھے سے اچھے طریقے سے پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے".

اسی طرح کے واقعات بھی ہو چکے ہیں۔حضرت ابّوموسیٰ الاشعری رضی الله تعالیٰ عنہ ,وہ بہت خوش الحان تھے تو ایک روز حضور صلى الله عليه وسلم رات کے وقت کہیں گشت پر تھے ، کہی جا رہے تھے ،جب گزرےانکے مکان کے قریب سے تو وہ اس وقت رات کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے تو حضورصلى الله عليه وسلم وہاں پر کافی دیر کھڑے ہوکر سنتے رہے.

ظاہر بات ہے اس وقت کے مکان کیا ہوتے تھے ؟ ایک خیمہ ہوتا تھا. کئی کئی کنال کی کوٹھیاں تو نہیں ہوتی تھی کے پتا نہ چلے کے کیا ہو رہا ہے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم تو حضرت ابو بکر رضی الله تعالیٰ عنہ کے مکان کے پاس سے گزرتےتھے تو ان کی تلاوت سنتے تھے ،حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ کے مکان کے قریب سے گزرتےتھے تو ان کی تلاوت سنتے تھے ،حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ بلند آواز میں پڑھتے تھے ، حضرت ابو بکر رضی الله تعالیٰ عنہ بڑی پست آواز میں پڑھتے تھے.حضورصلى الله عليه وسلم نے پوچھا کے تم ایسا کیوں کرتے ہوں ؟حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں تیز آواز سے اس لیے پڑھتا ہوں کے شیطان بھاگ جائے. حضرت ابوبکر رضی الله تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں پست آواز میں اس لئے پڑھتا ہوں کہ جسکو میں سنا رہا ہوں وہ سن لے، اسکو بولند آواز کی ضرورت نہیں. حضور صلى الله عليه وسلم نے کہا ،ابو بکر تم زرا اونچی کر لوں آواز اور عمر تم زرا پست کر لو. بہرحال یہ معملا حضور صلى الله عليه وسلم کا صحابہ رضی الله تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوتا تھا.

 حضرت ابّوموسیٰ الاشعری رضی الله تعالیٰ عنہ کی قرات جب آپ صلى الله عليه وسلم نے سنی تو اگلے روز جب مولاقات ہوئی فجر کے وقت تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا،اے ابو موسیٰ تمہیں تو اللہ نے آلے داوود عليه سلام کے سازوں میں سے ایک ساز آتا کیا ہے. یعنی حضرت داوود عليه سلام کے گلے میں جو ساز تھا ، خوش الحانی تھی ، انکی آواز نہایت خوبصورت تھی تو اسی طریقے سے حضرت ابوموسیٰ رضی الله تعالیٰ عنہ کی آواز میں بھی مٹھاس تھی.

قرآن اور عربی زبان:

ایک آخری بات یہ نوٹ کیجے کہ قرآن مجید کا عظیم ترین احسان ہے عربی زبان پر. یہ یوں سمجھیں کہ ایک ستون کی طرہاں اس زبان کو ٹہرا دیا ہے قرآن مجید نے . آج بھی پوری دنیا میں جسے عرب کہتے ہیں "فصی " زبان . وہ ایک ہی ہے وہ قرآن ہی کی ہے. زبانے بدلتی رہتی ہیں اردو تین سو سال پہلے دکن میں جب شوروع ہوئی وہ آج آپ پڑھ بھی نہیں سکتے ، پھر کیا کیا اس نے روپ بدلے ہے آج وہ کس شکل میں ہے . فارسی کن کن شکلوں میں رہی ہے انگریزی کی کتنی شکلے بدل گئی ہیں لیکن عربی قائم ہے. اسکے لئے جیسے قرآن مجید میں آتا ہے کہ ہمنے پہاڑ زمین میں گاڑ دیے اسکو مستحکم کرنے کے لئے. تو جس طرہاں یہ پہاڑ مستحکم رکھتے ہیں زمین کو اسی طرہاں قرآن نے مستحکم کیا ہے عربی زبان کو اس کے اندر جو ایک ٹہراؤ اور جماؤ پیدا کیا ہے یہ قرآن مجید کا ایک عظیم ترین احسان ہے.

PREVIOUS POST